ساحل آن لائن - سچائی کا آیئنہ

Header
collapse
...
Home / ساحلی خبریں / بینکوں کی ہڑتال سے ریاست بھر میں کاروبار بری طرح متاثر

بینکوں کی ہڑتال سے ریاست بھر میں کاروبار بری طرح متاثر

Thu, 27 Dec 2018 10:59:45    S.O. News Service

بنگلورو،27؍دسمبر(ایس اونیوز) مرکزی حکومت کی جانب سے بینک آف بروڈا ، دینا بینک اور وجئے بینک کو ضم کردینے کے فیصلے کی مخالفت کرتے ہوئے آج بینک ملازمین کی ہڑتال کے سبب بینکنگ کا کاروبار ملک بھر میں ٹھپ رہا۔ اس ہڑتال کا اثر ریاست میں بھی غیر معمولی طور پر دیکھا گیا۔ قومی بینک ملازمین انجمنوں کی آواز پر اس ہڑتال میں ریاست بھر کے بینک ملازمین نے بھی حصہ لیا اور آج صبح میسور بینک سرکل کے روبرو ہزاروں کی تعداد میں جمع ہوکر مرکزی حکومت کے فیصلے کی مخالفت میں احتجاج کیا۔ان ملازمین کا کہنا ہے کہ ایسے مرحلے میں جبکہ قومی بینکنگ نظام کو اور بھی مضبوط کرنے کی کوشش ہونی چاہئے اور اس بینکنگ نظام کو ملک کے کونے کونے تک پہنچانا چاہئے، مرکزی حکومت مختلف بینکوں کو ختم کردینے کی کوشش کررہی ہے۔ ان ملازمین کا کہنا ہے کہ اسٹیٹ بینک آف انڈیا میں اس سے پہلے پانچ صوبائی اسٹیٹ بینکوں کو ضم کئے جانے کی وجہ سے 2017میں خسارہ 1.77 لاکھ کروڑ سے بڑھ کر 2.25 کروڑ روپیوں تک پہنچ گیا ، مرکزی حکومت کے یہ فیصلے قومی بینکنگ نظام کے لئے سنگین خطرہ ہیں۔ فی الوقت قومی بینکوں کی طرف سے مختلف ذرائع سے دئے گئے قرضوں میں سے 8.95 لاکھ کروڑ روپیوں کے قرضوں کو غیر کار آمد اثاثوں کے زمرے میں رکھا گیا ہے۔ مرکزی حکومت ان قرضوں کو وصول کرنے کے لئے کارروائی کرنے کی بجائے جن بینکوں میں خسارہ زیادہ ہے ان بینکوں کو دوسرے منافع بخش بینکوں میں ضم کرکے عوام کو گمراہ کرنے کی کوشش کررہی ہے ایسی کوششوں سے ان بینکوں کی مالیت پر اثر پڑے گا جو منافع بخش ہیں۔ قومی سطح کی اس ہڑتال کی وجہ سے آج ریاست بھر کے 80ہزار بینک ملازمین نے مکمل طور پر احتجاج کا ساتھ دیا اور ریاست بھر میں پورا بینکنگ کاروبار مفلوج رہا۔ 


Share: